سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
زین العابدین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
غالب
فائیٹر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا
جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا بلا کشان محبت پہ جو ہوا سو ہوا مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر مرے لہو کو تو دامن سے دھو ہوا سو ہوا پہنچ چکا ہے سر زخم دل تلک یارو کوئی سبو کوئی مرہم رکھو ہوا سو ہوا کہے ہے سن کے مری سرگزشت وہ بے رحم یہ کون ذکر ہے جانے بھی دو ہوا سو ہوا خدا کے واسطے آ درگزر گنہ سے مرے نہ ہوگا پھر کبھو اے تند خو ہوا سو ہوا یہ کون حال ہے احوال دل پہ اے آنکھو نہ پھوٹ پھوٹ کے اتنا بہو ہوا سو ہوا نہ کچھ ضرر ہوا شمشیر کا نہ ہاتھوں کا مرے ہی سر پہ اے جلاد جو ہوا سو ہوا دیا اسے دل و دیں اب یہ جان ہے سوداؔ پھر آگے دیکھیے جو ہو سو ہو ہوا سو ہوا